Skip to main content

Posts

خاموش تماشائی نہ بنے !

سعیدہ زبیر شیخ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی اور ترقی کی وجہ سے ہم خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس نے ہماری زندگی کو آسان بنا دیا ہے.ہمارے آباؤ اجداد  کی زندگی ان ساری آسائشوں سے بہت دور تھی مگر  اس کے باوجود ان کی زندگی میں سکون  تھا.  آج ہم نئے دور میں داخل ہو چکے ہے پوری دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکا ہے۔ تمام فاصلے مٹ چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے انسانوں کے دلوں کے ساتھ ساتھ انسانیت سسک رہی ہے دم توڑ رہی ہیں آج کے تناظر میں جس کا بین ثبوت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر معصوم بچوں، عورتوں کا بڑی بےرحمی سے ماراجارہا ہیں۔ اورکس طرح بے گناہ انسانوں کے سفاکانہ قتل پر ساری دینا خاموش ہے؟جو لوگ انسانی جان کے علمبردار ہیں وہی انسانوں کے خون پر خاموش تماشائی بنے ہوے ہیں۔ انسانیت کا اصل جوہر کہاں گم ہو گیا ہے؟ دنیا میں مظلوم انسانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاےجا ے رہے ہیں۔ جس کا اظہار لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ  انسانی جان بہت ہی معتبر ہے ۔ حضرت عمر فاروق (ر) کے الفا ظ حقوق انسانی کے ابتدائی نقطہ اور چارٹر قرار پاے کہ " تم نے لوگوں کو کب سے غلا...
Recent posts

دکھوں کا مداوا

  سعیدہ زبیر شیخ   اس طرح کی اصطلاحات اب صرف کتابوں ہی میں سمٹ کردہ گئ ہے۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ لغت کے معنی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کے اس کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق اور رشتہ نہیں رہا۔ آج انسان ترقی کی معراج کو پہنچ چکا ہے۔جہاں میلوں کےفاصلے منٹوں میں طے پاتے ہیں ۔ مگر افسوس در افسوس دلوں  کے فاصلے طویل ہو گئے ہیں۔ آج انسانیت مٹتی جارہی ہے۔ انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ اورآخر ایسے حالات میں انسانوں کے دکھوں کا مداوا کس طرح ممکن ہے؟ اور وہ کیا اسباب ہے کہ انسان چاہ کر بھی اس کو نہیں کر پاتا ہے۔ دراصل ہم اتنے خوغرض ہو چکے ہیں۔ دلوں اور آنکھوں پر کئی  پردے پڑے ہوے ہیں۔کہ ہمیں کچھ نظر نہیں آتا۔ فرمان الہی ہے "صُمّم بُکْم عُمْی فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْن۔”بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں اب یہ نہیں پلٹیں گے۔   (البقرة:١٨)    لالچ، حرص اور حسد نے آج کے انسان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے. کائنات میں غوروفکر کرےاور عبرت کی نگاہ سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر شے چرند پرند حیوانات جمادات نباتات جو بے زبان ہو کر بھی خاموش پیغام د یتی ہے۔ ۔...

اب رشتوں کا ریشم الجھنے لگا ہے

زبیر حسن شیخ  والدین اور  اولاد کے درمیان محبتوں اور اعتبار  کا رشتہ فطری طور  پر ایک جان دوقالب کی طرح ہوتا ہے. لیکن کبھی کبھی حالات اور ماحول کے سبب پیچیدہ بھی ہو جاتا ہے، بلکہ کبھی کبھی تو غزل کے  اصول و قواعد سے بھی زیادہ پیچیدہ. کبھی قافیہ تنگ تو  کبھی ردیف گم، اور کبھی بحرمیں ایک انجانا تلاطم. دراصل ان رشتوں کے تقدس کا قیام و دوام تربیت پر منحصر ہوتا ہے. ماں کی تلخ و شیریں محبتوں اور باپ کی ناقدانہ تعقل سے بھر پور شفقتوں سے ہی اولاد کی تربیت انجام پاتی ہے. جہاں اولاد کی خون جگر سے پرورش کی جاتی ہے ونہیں عہد طفلی سے ہی قلب و ذہن کو دین و دنیا اور  اخلاق و اقدار کی تعلیم سے منور رکھا جاتا ہے. تربیتی دور میں ہی اولاد کے قلب و ذہن میں  ذمہ داری کا احساس پروان چڑھا یا جاتا ہے. درس و تدریس کے علاوہ عملی طور پر رہنمائی کی جاتی ہے،  اور مختلف قسم کی مصروفیات سے اولاد کی  ذہنی، فکری، عملی اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشونما کی جاتی ہے. ایسے تمام تربیتی مراحل سے گزر کر اولاد پرورش پاتی ہے اور  پھر والدین کے ساتھ رشتوں کا ریشم زند...