سعیدہ زبیر شیخ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی اور ترقی کی وجہ سے ہم خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس نے ہماری زندگی کو آسان بنا دیا ہے.ہمارے آباؤ اجداد کی زندگی ان ساری آسائشوں سے بہت دور تھی مگر اس کے باوجود ان کی زندگی میں سکون تھا. آج ہم نئے دور میں داخل ہو چکے ہے پوری دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکا ہے۔ تمام فاصلے مٹ چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے انسانوں کے دلوں کے ساتھ ساتھ انسانیت سسک رہی ہے دم توڑ رہی ہیں آج کے تناظر میں جس کا بین ثبوت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر معصوم بچوں، عورتوں کا بڑی بےرحمی سے ماراجارہا ہیں۔ اورکس طرح بے گناہ انسانوں کے سفاکانہ قتل پر ساری دینا خاموش ہے؟جو لوگ انسانی جان کے علمبردار ہیں وہی انسانوں کے خون پر خاموش تماشائی بنے ہوے ہیں۔ انسانیت کا اصل جوہر کہاں گم ہو گیا ہے؟ دنیا میں مظلوم انسانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاےجا ے رہے ہیں۔ جس کا اظہار لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ انسانی جان بہت ہی معتبر ہے ۔ حضرت عمر فاروق (ر) کے الفا ظ حقوق انسانی کے ابتدائی نقطہ اور چارٹر قرار پاے کہ " تم نے لوگوں کو کب سے غلا...